twitter

شاعری اور ہم​

یہ ان دنوں کی با ت ہے جب ہماری دسویں کلاس کے امتحان ہمارے سر پر تھے اورہمارے والدین ہمیں امتحانات کی تیاری کا کہہ کہہ کر عاجز آ چکے تھے مگر مجال تھی کہ ہمارے کانوں پر جوں تک بھی رینگ جائے ۔۔۔ !انہی دنوں شاید ہمیں کسی خوبرو کی نظر لگی یا کسی بدخواہ کی بددعا ۔۔کہ ہم پر شاعری کا بھوت سوار ہو گیا ۔۔۔ مہم جوئی تو ہماری فطرت کا خاصہ ہے ۔۔۔ سو سامانِ حرب(کاغذ ،قلم) سے لیس ہو کر قلعۂ شاعری کو تسخیر کرنے کیلیے نکل کھڑے ہوئے ۔۔۔ مگریہ کیا ۔۔۔ غزل یا نظم کہنا تو درکنار ۔۔۔ ہم سے تو ایک آدھ شعر ہی نہ بن پایا ۔۔۔ ۔۔ اگر کہیں کوئی ایک آدھ مصرع ذہن میں آتا ۔۔۔ تو دوسرا مصرع نہ بن پاتا۔۔۔ ۔ اور اگر کبھی کھینچ تان کر کوئی شعر مکمل کر ہی لیتے ۔۔۔ تو مزید اشعار کہنے پر قدرت نہ ہوتی ۔۔ ۔۔۔ ! تو اس صورتحال پر ہم سخت تشویش میں مبتلا ہو گئے ۔۔ ۔۔۔ سو اس مسئلہ کے حل کے لئے جب ہم سوچ و بچار کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہوئے ۔۔۔ تو ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ شعر گوئی کے لئے وسعتِ مطالعہ اور حساس طبیعت کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کی بھی اَشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ مگر ہماری ذاتِ با برکات ان تمام صفاتِ کاملہ سے بالکل کَوری تھی ۔۔۔ ۔ سو ہم نے اس کا ایک یہ شارٹ کٹ طریقہ نکالا ۔۔۔ ۔ کہ کبھی خود کو اقبال تصور کرتے ۔۔۔ ۔ کہ شاید اس طرح کہیں اقبالؒ کی روح ہم میں حلول کر جائے ۔۔۔ اور ہم کچھ اشعار کہنے کے قابل ہو جائیں۔۔۔ !اور کبھی خود کو غالب گردانتے کہ شاید اسی طرح ہی غیب سے کچھ مضامین کی آمد ہو جائے ۔۔۔ ! مگر ہنوز ۔۔۔ دلی دور است۔۔۔ !
والد صاحب ہمیں اس حال ِ بے حال میں دیکھ کر سمجھے کہ شاید اُن کی کوئی نصیحت اثر کر گئی ہے اور موصوف پڑھائی میں مصروف ہیں جبکہ والدہ کا خیال تھا کہ ان کا کیا گیا وظیفہ رنگ دکھلا گیا ہے ۔۔۔ مگر حقیقتِ حال سے تو ۔۔۔ میں واقف تھا۔۔۔ یا پھر میرا خدا۔۔۔ !
ہمارے ایک قریبی شاعر دوست تھے جن کا نام میں بوجوہ نہیں لکھ رہا۔۔۔ سے جب ہم نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا ۔۔۔ ۔اور اُن سے مشورہ چاہا ۔۔۔ تو انہوں نے ہمیں ، اقبال ،غالب اور میر جیسے بڑے بڑے شعراء کے کلام کے مطالعہ کا مشورہ دیا۔۔۔ اُن کے قیمتی مشورہ کی پیشِ نظر ہم نے پبلک لائبریری سے دیوانِ غالب کا ایک نسخہ اڑایا ۔۔۔ ۔اور گھر پہنچ کر غالب کے اشعار کو سمجھنے کی سعی ناتمام فرمانے لگے ۔۔۔ مگر کہاں ہم جیسا کج فہم اور کہاں غالب جیسا زبان داں ۔۔۔ ۔جب کچھ بھی ہمارے پلے نہ پڑا۔۔۔ ۔ تو ہم پھر سے اپنے اُسی شاعر دوست کے گھر جا دھمکے۔۔۔ اور کہا کہ بھائی ۔۔۔ ہمیں دیوانِ غالب پڑھا ؤ۔۔ ۔۔تو موصوف فرمانے لگے۔۔۔ کہ مجھے تو خود دیوانِ غالب کا ایک شعر بھی سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔ تو میں نے حیرانی سے استسفار کیا ۔۔۔ کہ پھر آپ شاعر کیسے بن گئے ۔۔۔ ۔ ؟تو پہلے تو اُنہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔۔۔ ۔ پھر میرے اصرار پر رازدانہ لہجے میں کہنے لگے ۔۔۔ ! ارے میاں ۔۔۔ بازار سے کسی گمنام شاعر کی کتاب خریدو ۔۔۔ اور اس کی غزلوں کو اپنے نام کے ساتھ لوگوں میں پڑھنا شروع کر دو۔۔۔ ! اس طرح تم آسانی سے لوگوں میں شاعر مشہور ہو جاؤگے۔۔سو ہم نے اپنے محسن دوست کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔ ۔اوردل و جان سے اس کے بتائے ہوئے نسخۂ کیمیا پر عمل پیرا ہو گئے ۔۔۔ ۔ اور جلد ہی ارد گرد کے لوگوں میں کافی مقبول ہوگئے ۔۔۔ ! اور اس دن تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔۔۔ جب ہمیں ضلعی سطح پر ایک مشاعرے میں مدعو کیا گیا۔۔۔ سو مقررہ تاریخ کو ہم نے خوبصورت لباس زیب تن کیا ۔۔۔ اوراک پُر وقار انداز میں محفلِ مشاعرہ میں پہنچ گئے ۔۔۔ مشاعرہ شروع ہوا۔۔۔ مختلف شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔۔۔ آخر ہماری باری بھی آ گئی ۔۔۔ ہم بڑی شان اور تمکنت کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے ۔۔۔ اور ایک غزل ترتم کے ساتھ پڑھنی شروع کی ۔۔۔ ۔ تو حاضرین عش عش کر اُٹھے۔۔۔ ہم نے داد طلب نگاہوں کے ساتھ جب صدرِ مشاعرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو انہیں غضب ناک نگاہوں کے ساتھ ہمیں گھورتا پایا۔۔۔ ہم حیران ہوئے کہ الٰہی ماجرا کیا ہے ۔۔۔ ؟ خیر جب ہم اسٹیج سے واپس تشریف لے گئے ۔۔!اور صدرِ مشاعرہ اسٹیج پر رونق افروز ہوئے ۔۔۔ ۔۔تو انہوں نے سب سے پہلے میری تعریف کی پھر دھیمے لہجے مستسفر ہوئے کہ یہ غزل آپ نے کب کہی ؟۔۔۔ ۔ تو ہم نے بڑے فخریہ انداز میں جواب دیا کہ۔۔۔ ۔ کل رات ہی خاص طور پر اس مشاعرہ کیلئے فی البدیہہ کہی ہے ۔۔۔ ! اس پر انہوں نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے کی اپنی مطبوعہ کتاب نکالی۔۔۔ کتاب پر نظر پڑتے ہی ہمارے اوسان خطا ہو گئے ۔۔۔ کیونکہ وہ وہی کتاب تھی ۔۔ جس سے ہم نے غزل سرقہ کرکے مشاعرے میں سنائی تھی۔۔۔ !بس کچھ نہ پوچھئے پھر کیا ہوا۔۔۔ ۔ اس وقت یہ مصرع ہم پر پوری طرح صادق آتا تھا۔۔۔ ؏

بہت بے آبروہو کر ترے کوچہ سے ہم نکلے​

مگر اس قدر رسوائی کے بعد بھی طبیعت کی جولانی نے ہمیں ہار نہ ماننے دی۔۔۔ اب کی بار ہم نے یہ تہیہ کر لیا۔۔۔ کہ خود ہی شعر کہیں گے ۔۔۔ اصل میں ہم نے کہیں پر یہ پڑھا تھا کہ شاعری دو طرح کی ہوتی ہے ۔۔۔ !ایک وہ جو غالب کی طرح غیب سے مضامین خیال میں آتے ہیں ۔۔۔ ۔۔اور دوسری وہ جس میں خود شاعر اپنے احساسات کو اشعار کے پیراہن میں ڈھالتا ہے ۔۔ ۔۔۔ سو اوّل الذکر تو ہماری پروازِ فکری سے بہت بلند تھی ۔۔۔ البتہ مؤخر الذکر پر طبع آزمائی کرنے میں کوئی حرج نہ تھا۔۔۔ ۔۔سو کافی دنوں کی مغز ماری کہ بعد آخر ہم ایک شعر کہنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔ اب مسئلہ اُسی زمین میں مزید اشعار کہنے کا تھا۔۔۔ سو اس کے لئے سب سے پہلے ہم نے قافیہ پیمائی کی ۔۔۔ اور اس زمین کے ممکنہ قوافی تلاش کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔ اس کے بعد ان قوافی کو ردیف کے ساتھ جوڑ کر۔۔۔ شعر کا مصرعہ ٔثانی بنانے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔ ۔ اور جلد ہی تقریبا سات عدد ہاف اشعار کہہ لیے ۔۔۔ ہاف اس لئے کہ کیونکہ صرف مصرعۂ ثانی ہی کہا تھا۔۔۔ مصرعہ اوّل ابھی تمام اشعار کا باقی تھا۔۔۔ !اب کے مصرعۂ اول کہنا ہمارے لئے دردِ سر تھا۔۔۔ ۔قصہ مختصر ۔۔ آخر کافی دنوں کی ریاضت کے بعد ہم ایک عدد غزل کہنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔ ۔ ! اس وقت ہماری خوشی دیدنی تھی ۔۔۔ ۔ اب ہر شاعر کی طرح یہ فکر پڑی کہ جلد از جلد اپنی غزل کسی کو سنا کر اس سے داد وصول کی جائے۔۔۔ ۔ سو سب سے پہلے اُسی شاعر دوست کا تصور ذہن میں اُبھرا۔۔۔ ۔ اور ہم اگلے ہی لمحے اس دوست کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ۔۔۔ ۔ اگرچہ اس وقت رات کے 2 بج رہے تھے مگر ہم اس کی پرواہ کب تھی ۔۔۔ ۔ کافی دیر بعد کہیں جا کر اُس نے دروازہ کھولا۔۔۔ ۔ خیریت تو ہے اتنی رات گئے تم ۔۔۔ ۔ یہاں۔۔۔ وہ نیم غنودگی کی حالت میں بولا۔۔۔ ۔ ہاں ہاں خیریت ہے ۔۔۔ یار ابھی ابھی میں نے زندگی کی پہلی غزل لکھی ہے سوچا تمہیں سنا لوں۔۔۔ ۔ میں نے بڑے پرجوش لہجے میں اسے یوں بتایا۔۔۔ جیسے کہ کوئی پہاڑ سر کر کے آ رہا ہوں ۔۔۔ ۔ یا پھر خزانۂ قارون کی چابیاں مجھے مل گئی ہوں۔۔۔ ! خیر اس نے بادل نخواستہ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ۔۔۔ اور بولا کہ یار تم صبح آ کر بھی تو غزل سنا سکتے تھے۔۔۔ ۔ تو میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔۔۔ اصل میں میں اس قدر پر جوش تھا کہ کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔ ۔۔پھر اُس نے کہا کہ غزل سناؤ اور خود ہمہ تن گوش صوفے پر دراز ہو گیا۔۔۔ ۔! بس اذن ملنے کی دیر تھر ۔۔۔ ۔۔پھر ہم نے آنکھیں بند کیں ،آواز میں تھوڑا سوز پیدا کیا اوربڑے ترنم کے ساتھ غزل پڑھنی شروع کی۔۔۔ مطلع پڑھنے کے بعد جب ہم نے داد طلب نگاہوں سے اپنے دوست کی طرف دیکھا۔۔۔ ۔ تو موصوف حالتِ استغراق میں آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے ۔۔۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ ہمارے دوست ہماری شاعری بڑی توجہ اور انہماک کے ساتھ سُن رہے ہیں ۔۔۔ ۔ ہم نے اور زیادہ سوز کے ساتھ غزل پڑھنی شروع کی ۔۔۔ ! جب مقطع پر پہنچے تو دوست کے خراٹوں کی آواز نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔ ۔! ہم نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ ۔ تومعلوم ہوا کہ موصوف تو بیٹھے بیٹھے ہی سو گئے ہیں۔۔۔ ۔ بس کچھ نہ پوچھئے اس وقت ہماری کیا حالت ہوئی۔۔۔ ۔ دل تو کیا تھا کہ اسے کچا ہی چبا جائیں ۔۔۔ ۔مگر ظالم کے بچوں پر ترس آ گیا ۔۔۔ خیر دل پر جبر کرتے ہوئے ہم اپنے گھر کو عازمِ سفر ہوئے۔۔۔ !
گھر آکر ہم نے اس سانحہ پُر ملال کو بھلانے کیلئے مستقبل کی پیش بندیوں میں سوچ و بچار کے گھوڑے دوڑا دئیے ۔۔۔ ! اسی دوران نیند نے آ دبوچا۔۔۔ ! خیر اسی طرح شب روز گزرتے رہے ۔۔۔ ۔اور ہم بجائے پیپروں کی تیاری کے بزعمِ خود میدانِ سخنوری میں اپنی شہسواری کے جھنڈے گاڑھتے رہے۔۔۔ ۔ اُس دن ہمارا ٓخری پیپر تھا ۔۔۔ ۔ اور ہم پہلے کی طرح خود کو ثانیٔ غالب سمجھتے ہوئے ایک زبردست غزل (بزعم خود )کہنے میں اس قدر منہمک تھے کہ ہمیں والد صاحب کی آمد کا پتہ تک نہ چلا۔۔۔ ۔والد صاحب نے کھنکار کر ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ ۔ تو ہم عالمِ محویت سے سے باہر نکل کر حیرت و استعجاب سے والد صاحب کو دیکھنے لگے جن کی شعلہ بار نگاہیں ہمارے دیوان کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔ ۔!والد صاحب نے مجھ سے مجھ سے میرا رجسٹر لیا۔۔۔ (جسے میں اپنا دیوان گردانتا تھا)۔۔۔ ایک دو صفحات پڑھے اور لے کر میری والدہ کی طرف چل دئیے۔۔۔ ۔ جوکھانے پکانے کے لئے چولہے میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔ ۔ میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔۔۔ ۔۔ کہ شاید والد صاحب میری شاعری سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور اب والدہ کو سنانے جا رہے ہیں ۔۔۔ ۔۔ مگر میری یہ خوش فہمی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی ۔۔۔ ۔ !
بس اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ نہ مجھ میں بیان کرنے کی سکت ہے ۔۔۔ ۔ اور نہ ہی آپ میں سننے کی ہمت ہو گی۔۔۔ ! بس اتنا سمجھ لیجئے کہ اس دن ہمارے دیوان ہی سے گھر کی روٹیاں پکی تھیں ۔۔۔ سو اُس دن سے شاعری ہمارے لئے شجرِ ممنوعہ ٹھہری اور اس طرح حوادثِ زمانہ نے نسلِ نَو کو اک اور غالب سے محروم کر دیا۔۔۔ !


26/02/2013​
بتحریر ۔۔۔ محمد ذیشان نصر ۔۔۔ لاہور​
Tuesday, February 16, 2016 | 0 comments |

لگتا ہے اقبالؒ نے یہ نظم میرے لئے ہی لکھی ہے۔۔۔ سو فیصد میری کیفیات پر جچ رہی ہے۔۔۔

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو

مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری 
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

آزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو

گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو

ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا ہو

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو

صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو

ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو

آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ
پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

مہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو

پچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی مؤذن
میں اس کا ہم نوا ہوں ، وہ میری ہم نوا ہو

کانوں پہ ہو نہ میرے دیر وحرم کا احساں
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو

پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا ہو

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو

ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں ، شاید انھیں جگا دے

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
Friday, November 1, 2013 | 0 comments | Labels:


خیالات کے منتشر ہجوم کو صفحۂ قرطاس پر بکھیرنا کس قدر دشوار ہے اور جذبات کے تلاطم کو اوراقِ ہستی پر رقم کرنا کتنا مشکل؟ اس کی قلعی مجھ پر آج کھلی ۔سوچ رہا ہوں کیا لکھوں ۔۔ کیسے لکھوں ۔۔ الفا ظ ہیں کہ دیارِ دل سے کنارِ لب تک آتے آتے خود ہی دم توڑ جاتے ہیں ۔۔۔ خیالات کا ایک بحرِ بے کراں ہے کہ نوکِ قلم تک آنے سے پہلے ہی ذہن کی لامحدود وسعتوں میں کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ جب لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو لکھ نہیں پاتا۔۔۔ ایک طرف ناآسودہ خواہشات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے تو دوسری طرف تشنہ بہ تکمیل تمناؤں کا اک جمِ غفیر۔ ۔۔ اور ذہن ہے کہ اسی ہجوم ِغم میںکہیں الجھ کر رہ جاتا ہے ۔ پھر اسی ذہن کی ڈھونڈتے ڈھونڈے میں خود بھی اسی ہجومِ غم میں کہیں کھو کر رہ جاتا ہوں ۔۔ !
پھر اک نئے سفر کی ابتدا ہوتی ہے اورمیں خود ہی کی تلاش کے ایک لا متناہی سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہوں ۔ ۔۔ میں خود کو کھوجنا چاہتا ہوں۔۔ خود کو پہنچاننا چاہتا ہوں ۔۔۔ مگر میں خود کو ڈھونڈھ نہیں پاتا۔۔۔ اور میں خود کو خود ہی کے اس شعر کا مصداق پاتا ہوں۔۔۔!
وہی سنسان رستے ہیں ، وہی گمنام منزل ہے
چلا تھا جس جگہ سے میں اسی رہ پر کھڑا ہو ں پھر

محمد ذیشان نصر (کیفیت نامہ روزِ ہذا)
Thursday, October 31, 2013 | 0 comments | Labels:
اس سوفٹ وئیر کی مدد سے آپ درج ذیل چیزیں معلوم کر سکتے ہیں ۔۔ 
Simple and compound Interst
Rate of Interest of both
Amout of Interest of both
Time period of Interst of both

آپ درج ذیل بیسز پر انٹرسٹ معلوم کر سکتے ہیں 
1. Per Annum 
2.Semi Annually
3. Quarterly
4. Monthly
5. Daily


| 0 comments | Labels:
اس سوفٹ وئیر کی مدد سے آپ درج ذیل چیزیں معلوم کر سکتے ہیں ۔۔ 
Corelation between two variables
Standard deviation of X and Y
Regression co-efficent of X on Y
Regression co-efficent of Y on X
Regression Equition of X on Y
Regression Equition of Y on X


| 2 comments | Labels:
اس سوفٹ وئیر کی مدد سے آپ اپنے حاصل کردہ نمبرز کی پرسنٹیج اور گریڈ معلوم کر سکتے ہیں۔۔

| 0 comments | Labels:
اس خوبصورت سوفٹ وئیر کی مدد سے آپ اپنی عمر، سالوں، مہینوں ، ہفتوں، دنوں، گھنٹوں حتیٰ کہ سیکنڈز تک میں معلوم کر سکتے ہیں۔۔۔ نیز آپ اپنا پیدائش کا دن بھی معلوم کر سکتے ہیں اس کے علاوہ کسی بھی تاریخ گذشتہ و آنے والی تاریخ کا دن معلوم کر سکتے ہیں۔۔


| 0 comments | Labels:
شاعری اور ہم​

یہ ان دنوں کی با ت ہے جب ہماری دسویں کلاس کے امتحان ہمارے سر پر تھے اورہمارے والدین ہمیں امتحانات کی تیاری کا کہہ کہہ کر عاجز آ چکے تھے مگر مجال تھی کہ ہمارے کانوں پر جوں تک بھی رینگ جائے ۔۔۔ !انہی دنوں شاید ہمیں کسی خوبرو کی نظر لگی یا کسی بدخواہ کی بددعا ۔۔کہ ہم پر شاعری کا بھوت سوار ہو گیا ۔۔۔ مہم جوئی تو ہماری فطرت کا خاصہ ہے ۔۔۔ سو سامانِ حرب(کاغذ ،قلم) سے لیس ہو کر قلعۂ شاعری کو تسخیر کرنے کیلیے نکل کھڑے ہوئے ۔۔۔ مگریہ کیا ۔۔۔ غزل یا نظم کہنا تو درکنار ۔۔۔ ہم سے تو ایک آدھ شعر ہی نہ بن پایا ۔۔۔ ۔۔ اگر کہیں کوئی ایک آدھ مصرع ذہن میں آتا ۔۔۔ تو دوسرا مصرع نہ بن پاتا۔۔۔ ۔ اور اگر کبھی کھینچ تان کر کوئی شعر مکمل کر ہی لیتے ۔۔۔ تو مزید اشعار کہنے پر قدرت نہ ہوتی ۔۔ ۔۔۔ ! تو اس صورتحال پر ہم سخت تشویش میں مبتلا ہو گئے ۔۔ ۔۔۔ سو اس مسئلہ کے حل کے لئے جب ہم سوچ و بچار کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہوئے ۔۔۔ تو ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ شعر گوئی کے لئے وسعتِ مطالعہ اور حساس طبیعت کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کی بھی اَشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ مگر ہماری ذاتِ با برکات ان تمام صفاتِ کاملہ سے بالکل کَوری تھی ۔۔۔ ۔ سو ہم نے اس کا ایک یہ شارٹ کٹ طریقہ نکالا ۔۔۔ ۔ کہ کبھی خود کو اقبال تصور کرتے ۔۔۔ ۔ کہ شاید اس طرح کہیں اقبالؒ کی روح ہم میں حلول کر جائے ۔۔۔ اور ہم کچھ اشعار کہنے کے قابل ہو جائیں۔۔۔ !اور کبھی خود کو غالب گردانتے کہ شاید اسی طرح ہی غیب سے کچھ مضامین کی آمد ہو جائے ۔۔۔ ! مگر ہنوز ۔۔۔ دلی دور است۔۔۔ !
والد صاحب ہمیں اس حال ِ بے حال میں دیکھ کر سمجھے کہ شاید اُن کی کوئی نصیحت اثر کر گئی ہے اور موصوف پڑھائی میں مصروف ہیں جبکہ والدہ کا خیال تھا کہ ان کا کیا گیا وظیفہ رنگ دکھلا گیا ہے ۔۔۔ مگر حقیقتِ حال سے تو ۔۔۔ میں واقف تھا۔۔۔ یا پھر میرا خدا۔۔۔ !
ہمارے ایک قریبی شاعر دوست تھے جن کا نام میں بوجوہ نہیں لکھ رہا۔۔۔ سے جب ہم نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا ۔۔۔ ۔اور اُن سے مشورہ چاہا ۔۔۔ تو انہوں نے ہمیں ، اقبال ،غالب اور میر جیسے بڑے بڑے شعراء کے کلام کے مطالعہ کا مشورہ دیا۔۔۔ اُن کے قیمتی مشورہ کی پیشِ نظر ہم نے پبلک لائبریری سے دیوانِ غالب کا ایک نسخہ اڑایا ۔۔۔ ۔اور گھر پہنچ کر غالب کے اشعار کو سمجھنے کی سعی ناتمام فرمانے لگے ۔۔۔ مگر کہاں ہم جیسا کج فہم اور کہاں غالب جیسا زبان داں ۔۔۔ ۔جب کچھ بھی ہمارے پلے نہ پڑا۔۔۔ ۔ تو ہم پھر سے اپنے اُسی شاعر دوست کے گھر جا دھمکے۔۔۔ اور کہا کہ بھائی ۔۔۔ ہمیں دیوانِ غالب پڑھا ؤ۔۔ ۔۔تو موصوف فرمانے لگے۔۔۔ کہ مجھے تو خود دیوانِ غالب کا ایک شعر بھی سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔ تو میں نے حیرانی سے استسفار کیا ۔۔۔ کہ پھر آپ شاعر کیسے بن گئے ۔۔۔ ۔ ؟تو پہلے تو اُنہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔۔۔ ۔ پھر میرے اصرار پر رازدانہ لہجے میں کہنے لگے ۔۔۔ ! ارے میاں ۔۔۔ بازار سے کسی گمنام شاعر کی کتاب خریدو ۔۔۔ اور اس کی غزلوں کو اپنے نام کے ساتھ لوگوں میں پڑھنا شروع کر دو۔۔۔ ! اس طرح تم آسانی سے لوگوں میں شاعر مشہور ہو جاؤگے۔۔سو ہم نے اپنے محسن دوست کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔ ۔اوردل و جان سے اس کے بتائے ہوئے نسخۂ کیمیا پر عمل پیرا ہو گئے ۔۔۔ ۔ اور جلد ہی ارد گرد کے لوگوں میں کافی مقبول ہوگئے ۔۔۔ ! اور اس دن تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔۔۔ جب ہمیں ضلعی سطح پر ایک مشاعرے میں مدعو کیا گیا۔۔۔ سو مقررہ تاریخ کو ہم نے خوبصورت لباس زیب تن کیا ۔۔۔ اوراک پُر وقار انداز میں محفلِ مشاعرہ میں پہنچ گئے ۔۔۔ مشاعرہ شروع ہوا۔۔۔ مختلف شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔۔۔ آخر ہماری باری بھی آ گئی ۔۔۔ ہم بڑی شان اور تمکنت کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے ۔۔۔ اور ایک غزل ترتم کے ساتھ پڑھنی شروع کی ۔۔۔ ۔ تو حاضرین عش عش کر اُٹھے۔۔۔ ہم نے داد طلب نگاہوں کے ساتھ جب صدرِ مشاعرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو انہیں غضب ناک نگاہوں کے ساتھ ہمیں گھورتا پایا۔۔۔ ہم حیران ہوئے کہ الٰہی ماجرا کیا ہے ۔۔۔ ؟ خیر جب ہم اسٹیج سے واپس تشریف لے گئے ۔۔!اور صدرِ مشاعرہ اسٹیج پر رونق افروز ہوئے ۔۔۔ ۔۔تو انہوں نے سب سے پہلے میری تعریف کی پھر دھیمے لہجے مستسفر ہوئے کہ یہ غزل آپ نے کب کہی ؟۔۔۔ ۔ تو ہم نے بڑے فخریہ انداز میں جواب دیا کہ۔۔۔ ۔ کل رات ہی خاص طور پر اس مشاعرہ کیلئے فی البدیہہ کہی ہے ۔۔۔ ! اس پر انہوں نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے کی اپنی مطبوعہ کتاب نکالی۔۔۔ کتاب پر نظر پڑتے ہی ہمارے اوسان خطا ہو گئے ۔۔۔ کیونکہ وہ وہی کتاب تھی ۔۔ جس سے ہم نے غزل سرقہ کرکے مشاعرے میں سنائی تھی۔۔۔ !بس کچھ نہ پوچھئے پھر کیا ہوا۔۔۔ ۔ اس وقت یہ مصرع ہم پر پوری طرح صادق آتا تھا۔۔۔ ؏

بہت بے آبروہو کر ترے کوچہ سے ہم نکلے​

مگر اس قدر رسوائی کے بعد بھی طبیعت کی جولانی نے ہمیں ہار نہ ماننے دی۔۔۔ اب کی بار ہم نے یہ تہیہ کر لیا۔۔۔ کہ خود ہی شعر کہیں گے ۔۔۔ اصل میں ہم نے کہیں پر یہ پڑھا تھا کہ شاعری دو طرح کی ہوتی ہے ۔۔۔ !ایک وہ جو غالب کی طرح غیب سے مضامین خیال میں آتے ہیں ۔۔۔ ۔۔اور دوسری وہ جس میں خود شاعر اپنے احساسات کو اشعار کے پیراہن میں ڈھالتا ہے ۔۔ ۔۔۔ سو اوّل الذکر تو ہماری پروازِ فکری سے بہت بلند تھی ۔۔۔ البتہ مؤخر الذکر پر طبع آزمائی کرنے میں کوئی حرج نہ تھا۔۔۔ ۔۔سو کافی دنوں کی مغز ماری کہ بعد آخر ہم ایک شعر کہنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔ اب مسئلہ اُسی زمین میں مزید اشعار کہنے کا تھا۔۔۔ سو اس کے لئے سب سے پہلے ہم نے قافیہ پیمائی کی ۔۔۔ اور اس زمین کے ممکنہ قوافی تلاش کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔ اس کے بعد ان قوافی کو ردیف کے ساتھ جوڑ کر۔۔۔ شعر کا مصرعہ ٔثانی بنانے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔ ۔ اور جلد ہی تقریبا سات عدد ہاف اشعار کہہ لیے ۔۔۔ ہاف اس لئے کہ کیونکہ صرف مصرعۂ ثانی ہی کہا تھا۔۔۔ مصرعہ اوّل ابھی تمام اشعار کا باقی تھا۔۔۔ !اب کے مصرعۂ اول کہنا ہمارے لئے دردِ سر تھا۔۔۔ ۔قصہ مختصر ۔۔ آخر کافی دنوں کی ریاضت کے بعد ہم ایک عدد غزل کہنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔۔۔ ۔ ! اس وقت ہماری خوشی دیدنی تھی ۔۔۔ ۔ اب ہر شاعر کی طرح یہ فکر پڑی کہ جلد از جلد اپنی غزل کسی کو سنا کر اس سے داد وصول کی جائے۔۔۔ ۔ سو سب سے پہلے اُسی شاعر دوست کا تصور ذہن میں اُبھرا۔۔۔ ۔ اور ہم اگلے ہی لمحے اس دوست کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ۔۔۔ ۔ اگرچہ اس وقت رات کے 2 بج رہے تھے مگر ہم اس کی پرواہ کب تھی ۔۔۔ ۔ کافی دیر بعد کہیں جا کر اُس نے دروازہ کھولا۔۔۔ ۔ خیریت تو ہے اتنی رات گئے تم ۔۔۔ ۔ یہاں۔۔۔ وہ نیم غنودگی کی حالت میں بولا۔۔۔ ۔ ہاں ہاں خیریت ہے ۔۔۔ یار ابھی ابھی میں نے زندگی کی پہلی غزل لکھی ہے سوچا تمہیں سنا لوں۔۔۔ ۔ میں نے بڑے پرجوش لہجے میں اسے یوں بتایا۔۔۔ جیسے کہ کوئی پہاڑ سر کر کے آ رہا ہوں ۔۔۔ ۔ یا پھر خزانۂ قارون کی چابیاں مجھے مل گئی ہوں۔۔۔ ! خیر اس نے بادل نخواستہ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ۔۔۔ اور بولا کہ یار تم صبح آ کر بھی تو غزل سنا سکتے تھے۔۔۔ ۔ تو میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔۔۔ اصل میں میں اس قدر پر جوش تھا کہ کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔ ۔۔پھر اُس نے کہا کہ غزل سناؤ اور خود ہمہ تن گوش صوفے پر دراز ہو گیا۔۔۔ ۔! بس اذن ملنے کی دیر تھر ۔۔۔ ۔۔پھر ہم نے آنکھیں بند کیں ،آواز میں تھوڑا سوز پیدا کیا اوربڑے ترنم کے ساتھ غزل پڑھنی شروع کی۔۔۔ مطلع پڑھنے کے بعد جب ہم نے داد طلب نگاہوں سے اپنے دوست کی طرف دیکھا۔۔۔ ۔ تو موصوف حالتِ استغراق میں آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے ۔۔۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ ہمارے دوست ہماری شاعری بڑی توجہ اور انہماک کے ساتھ سُن رہے ہیں ۔۔۔ ۔ ہم نے اور زیادہ سوز کے ساتھ غزل پڑھنی شروع کی ۔۔۔ ! جب مقطع پر پہنچے تو دوست کے خراٹوں کی آواز نے ہمیں چونکا دیا۔۔۔ ۔! ہم نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ ۔ تومعلوم ہوا کہ موصوف تو بیٹھے بیٹھے ہی سو گئے ہیں۔۔۔ ۔ بس کچھ نہ پوچھئے اس وقت ہماری کیا حالت ہوئی۔۔۔ ۔ دل تو کیا تھا کہ اسے کچا ہی چبا جائیں ۔۔۔ ۔مگر ظالم کے بچوں پر ترس آ گیا ۔۔۔ خیر دل پر جبر کرتے ہوئے ہم اپنے گھر کو عازمِ سفر ہوئے۔۔۔ !
گھر آکر ہم نے اس سانحہ پُر ملال کو بھلانے کیلئے مستقبل کی پیش بندیوں میں سوچ و بچار کے گھوڑے دوڑا دئیے ۔۔۔ ! اسی دوران نیند نے آ دبوچا۔۔۔ ! خیر اسی طرح شب روز گزرتے رہے ۔۔۔ ۔اور ہم بجائے پیپروں کی تیاری کے بزعمِ خود میدانِ سخنوری میں اپنی شہسواری کے جھنڈے گاڑھتے رہے۔۔۔ ۔ اُس دن ہمارا ٓخری پیپر تھا ۔۔۔ ۔ اور ہم پہلے کی طرح خود کو ثانیٔ غالب سمجھتے ہوئے ایک زبردست غزل (بزعم خود )کہنے میں اس قدر منہمک تھے کہ ہمیں والد صاحب کی آمد کا پتہ تک نہ چلا۔۔۔ ۔والد صاحب نے کھنکار کر ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ ۔ تو ہم عالمِ محویت سے سے باہر نکل کر حیرت و استعجاب سے والد صاحب کو دیکھنے لگے جن کی شعلہ بار نگاہیں ہمارے دیوان کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔ ۔!والد صاحب نے مجھ سے مجھ سے میرا رجسٹر لیا۔۔۔ (جسے میں اپنا دیوان گردانتا تھا)۔۔۔ ایک دو صفحات پڑھے اور لے کر میری والدہ کی طرف چل دئیے۔۔۔ ۔ جوکھانے پکانے کے لئے چولہے میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔ ۔ میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔۔۔ ۔۔ کہ شاید والد صاحب میری شاعری سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور اب والدہ کو سنانے جا رہے ہیں ۔۔۔ ۔۔ مگر میری یہ خوش فہمی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی ۔۔۔ ۔ !
بس اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ نہ مجھ میں بیان کرنے کی سکت ہے ۔۔۔ ۔ اور نہ ہی آپ میں سننے کی ہمت ہو گی۔۔۔ ! بس اتنا سمجھ لیجئے کہ اس دن ہمارے دیوان ہی سے گھر کی روٹیاں پکی تھیں ۔۔۔ سو اُس دن سے شاعری ہمارے لئے شجرِ ممنوعہ ٹھہری اور اس طرح حوادثِ زمانہ نے نسلِ نَو کو اک اور غالب سے محروم کر دیا۔۔۔ !


26/02/2013​
بتحریر ۔۔۔ محمد ذیشان نصر ۔۔۔ لاہور​
Wednesday, July 31, 2013 | 0 comments | Labels:

تجھ سے پہلی سی وفا کون کرے گا
بعد میرے یہ خطا کون کرے گا

کس پہ ہو گی تری وہ مشقِ ستم اب
ظلم تیرے یوں سہا کون کرے گا

ترکِ الفت نہیں اچھی یہ تو سوچو
عہدِ الفت کو وفا کون کرے گا

کر لیا ترک تعلق ،تجھے لیکن
یاد سے میری جدا کون کرے گا

جس طرح ٹوٹ کے چاہا تجھے ہم نے
اس طرح پیار بھلا کون کرے گا

کون رکھے گا مرے زخموں پہ مرہم
دردِ الفت کی دوا کون کرے گا

اب تو تاریک ہے آنگن مرے دل کا
اس اندھیرے میں ضیا کون کرے گا

مدتوں سے جو نصرؔ فرض ہے تجھ پر
حقِ الفت وہ ادا کون کرے گا

محمد ذیشان نصر
27-12-2012
Monday, December 31, 2012 | 3 comments | Labels:

رہا دربدر پھر ا کُو بکُو
رہی عمر بھر یہی آرزو

ملے مجھ کو بھی کوئی ہم نفس
کوئی مہ جبیں کوئی خوبرو

ملاہم سفر، مجھے جب نصرؔ
ہوئی ختم پھر مری جستجو

نہ میں کہہ سکا مرا حالِ دل
نہ ہی ہو سکی کوئی گفتگو

نہ ہی چھُپ سکا کبھی ان سے میں 
نہ ہی ہو سکا کبھی رُوبَرُو

مری تشنگی رہی عمر بھر
نہ میں ہو سکا کبھی سَرخرو

ہوئی ختم یوں مری داستاں
نہ میں وہ رَہا نہ وہ ماہ رُو

محمد ذیشان نصر 
22 دسمبر 2012
| 0 comments | Labels:

نگاہِ اقربا بدلی ، مزاجِ دوستاں بدلا
نظر اک اُن کی کیا بدلی کہ مجھ سے کُل جہاں بدلا 

مرے دنیائے دوں کو تو نے اے پیرِ مغاں بدلا
قیاس اب ہو گیا عرفاں یقیں سے اب گماں بدلا 

چمن کا رنگ گو تونے سراسر اے خزاں بدلا
نہ ہم نے شاخِ گُل چھوڑی نہ ہم نے آشیاں بدلا

گمانوں میں سبھی کے فرق آیا جب حجاب اٹّھے 
نہ لیکن یک سرِ مُو بھی یقینِ عاشقاں بدلا 

سرِ بازارِ حُسن و عشق کی رسوائیاں توبہ 
شعارِ مہوشاں بدلا مذاقِ عاشقاں بدلا 

سُنے سوتے میں جس دم نالہ ہائے نیم شب میرے 
تو چونک اُٹھے وہ یہ کہہ کرکہ کیا وقت اذاں بدلا 

کبھی ہم کہہ سکے ہمدم نہ کھل کر حالِ دل اُن سے 
کہ ہر لفظ اپنا سو بار آتے آتے تا زباں بدلا

خوشا یہ دن کہ میری زیست آخر مرگ سے بدلی
بالآخر خوابِ راحت سے مرا خوابِ گراں بدلا

طریقِ عشق میں گو کارواں پر کارواں بدلے 
نہ ہم نے رہ گذر بدلی نہ میرِ کارواں بدلا 

کروں کیا دل ہے باصد زہد و تقویٰ مائلِ رندی
جبلّت کیا بدل سکتی عمل کو اپنے ہاں بدلا

دکھائے سبز باغ اتنے تو صیادانِ پُر فن نے 
کِسی قیمت نہ بُلبل نے چمن سے آشیاں بدلا 

نہ رہ چھوڑی نہ ہم نے نقشِ پا ئے راہرواں چھوڑے
ہوا کے رُخ پہ رُخ تُونے تو گردِ کارواں بدلا

نہ بہکا پھر بھی مجنوں گو یہ لیلیٰ نے کیا اکثر 
کہ محمل اپنا بدلا، ناقہ بدلی ، سارباں بدلا

ارے توبہ کوئی حد ہے بھلا اِس بدگمانی کی 
ذرا میں پاس جا بیٹھا کہ اس نے پاسباں بدلا 

نظر میں اَب تو اے مجذوب ؔیہ اِک کھیل ہے دنیا
نظر کے سب تماشے تھے نظر بدلی جہاں بدلا 

ہوئی اک بے خُودی تحیّر چھا گیا سب پر 
جہاں مجذوب جا پہنچا فضا بدلی سماں بدلا 

بہت گو عشق میں مجذوبؔ بدلاتم نے حال اپنا
مگر جیسا بدلنا چاہئے ویسا کہاں بدلا 

حضرت مجذوبؒ
Friday, December 28, 2012 | 0 comments | Labels:

کسی سے سیکھ لے بُلبل سراپا داستاں رہنا 
ہے ننگ عشق حالِ دل کا محتاجِ بیاں رہنا

کھٹکتا ہے یہ تنکوں کا گُلوں کے درمیاں رہنا
بہت مشکل ہے اے بلبل چمن میں آشیاں رہنا

ہمیں دونوں برابر ہیں گلستاں ہو کہ صحرا ہو 
وہیں کے ہو گئے ہم ،ہوگیا اپنا جہاں رہنا 

یہ کیا طرفہ ادا، طرفہ تماشا، طرفہ پردہ ہے 
مری آنکھوں میں پھرنا پھر بھی آنکھوں سے نہاں رہنا

خدایا رحم کر اے چارہ گر اُف کیسے گزرے گی 
پڑا ہم کو جو دُنیا میں نصیبِ دشمناں رہنا 

خلاصہ ہم سے سن لے کوئی آدابِ محبت کا
دُعائیں دل میں دینا ، ظلم سہنا ، بے زباں رہنا 

بھلا یہ بھی کوئی اندا زہے اے بلبلِ نالاں 
گُلوں کے درمیاں رہ کر بھی مشغولِ فغاں رہنا 

بھروسہ کچھ نہیں اس نفسِ امّارہ کا اَے زاہد
فرشتہ بھی یہ ہو جائے تو اس سے بدگماں رہنا 

نہ رہ ناشاد سالک مسلکِ مجذوبؔ پر آجا 
اگر ہر حال میں تُو چاہتا ہے شادماں رہنا 
خواجہ عزیز الحسن مجذوب
| 1 comments | Labels:

اجنبی شہر کے اجنبی راستے  
میری تنہائی پر مسکراتے رہے 

میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا
تم بہت دیر تک یاد آتے رہے

زہر ملتا رہے، زہر پیتے رہے
روز مرتے رہے، روز جیتے رہے

زندگی ہمیں آزماتی رہی 
اور ہم بھی اسے آزماتے رہے 

زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا
زندگی کی طرف اک دریچہ کھلا

ہم بھی گویا کسی ساز کی تار ہیں 
چوٹ کھا تےرہے، گنگناتے رہے 

 کل کچھ ایسا ہوا، میں بہت تھک گیا 
اس لئے سن کہ بھی ان سنی کر گیا

کتنی یادوں کہ بھٹکے کارواں
دل کے زخموں کے در کھٹکھٹاتے رہے 

اجنبی شہر کے اجنبی راستے 
میری تنہائی پر مسکراتے رہے
| 0 comments | Labels:

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

شور برپا ہے خانہء دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی

شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی

تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

ناصر کاظمی
| 0 comments | Labels:

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی وعدہ یعنی نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر، وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ نئے گلے، وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرُو، تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیانِ شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہوئے اتفاق سے گر بہم، تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلہء ملامتِ اقربا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کوئی ایسی بات اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مِرے دل سے صاف اتر گئی
تَو کہا کہ جانے مِری بلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

(حکیم مومن خان مومن)
| 0 comments | Labels:

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے

میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانا ہے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاں
سوچنے کے لیے ایک رات کا موقع دے دے

اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نے
اپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنسو میں نے
میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دے

آج کی رات میرا دردِ محبت سُن لے
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سُن لے
آج اظہارِ خیالات کا موقع دے دے

بھلانا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھا
بےوفا تُو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھا
صرف دو چار سوالات کا موقع دے دے
| 0 comments | Labels:

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں

کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہت ہوں

علامہ اقبال
| 0 comments | Labels:

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جان ِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول میری شاخِ ہنر پر نکلا

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا
احمد فراز
| 0 comments | Labels:


مَیں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مِرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے

میں کِسی کے دستِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کِسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے

مِری روشنی تِرے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں، تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے

تجھے دُشمنوں کی خبر نہ تھی ، مجھے دوستوں کا پتہ نہیں
تِری داستاں کوئی اور تھی، مِرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا، یہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں ،دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
| 0 comments | Labels:


سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا

وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا، میں نے تجھے یاد کیا

اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثار
پھر تو فرمائیے، کیا آپ نے ارشاد کیا

اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا

اتنا مانوس ہوں فطرت سے، کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا

مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
| 0 comments | Labels: