twitter

Showing posts with label حمد و نعت. Show all posts
Showing posts with label حمد و نعت. Show all posts

دعا
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
جنوں کو تو مرے، مولا شکیبائی عطا کر دے

بنوں رہبر دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
مجھے وہ معرفت ، ایماں، وہ مولائی عطاکردے

مری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تو
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے

الٰہی سوچ سے میری ،ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مرے تو ایسی گہرائی عطا کردے

نگہ میری اٹھے جس سمت دنیا ہی بدل جائے
مری بے نور آنکھوں کو ،وہ بینائی عطا کر دے

معطر روح ہو جس سے ، مسخر قلب ہو جس سے
زبان و نطق کو یارب ،وہ گویائی عطا کردے

زَمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو
مرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے

خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو
مرے وجدان کو یارب، وہ دانائی عطا کر دے

اگر چہ عجز سے ہوں میں تہی دامن ، کرم سے تُو
مرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کردے

ترے در پر ندامت سے ،جھکی ہے پھر جبیں میری
تمنائے حزیں کو اب، تو شنوائی عطا کر دے

ترا ہی نام ہو لب پر ، نہ ہو پھر دوسرا کوئی
نصرؔ کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کردے

محمد ذیشان نصر
Thursday, June 21, 2012 | 0 comments | Labels:
گماں سے ورا ہے مقامِ محمدؐ
پیامِ خدا ہے پیامِ محمدؐ
امانت ، دیانت، شرافت، صداقت
ہے بالا جہاں سے نظامِ محمدؐ
شریعت خدا کی، چلن زندگی کا
سکھاتا ہے کیا کیا کلامِ محمدؐ
زباں پر جو آئے وہ اسم ِ گرامی
تو واجب ہے پھر احترامِ محمدؐ
کرم یہ خدا کا ہے ہم عاصیوں پر
کہ جاری ہے لب پر سلامِ محمدؐ
ملی رب سے توفیقِ مدحت سرائی
بیاں کر رہا ہے غلام ِ محمدؐ
ملی دل کو راحت ،سکوں زندگی کو
لیا جب بھی ذیشانؔ، نامِ محمدؐ
17-10-11


محمد ذیشان نصر
Wednesday, January 4, 2012 | 2 comments | Labels:
فخرِ کون و مکاں آپ کی ذات ہے 
سرورِ دو جہاں آپ کی ذات ہے 
عرش سے فرش تک گونجتی ہے صدا
رونق ِ کہکشاں ، آپ کی ذات ہے 
خاتم الانبیاء آپ خیر الانام
رحمتِ دوجہاں آپ کی ذات ہے 
مل گیاجن کو معراج کا معجزہ 
واقفِ لامکاں آپ کی ذات ہے 
جس کی آمد سے عالم اٹھے جگمگا
نور ِہر دو جہاں آپ کی ذات ہے
بے کسوں کے یتیموں کے والی ہیں آپ
حامئ بے کساں آپ کی ذات ہے 
با وفا سے وفا بھی نبھاتے ہیں آپ
شافعِ عاشقاں آپ کی ذات ہے 
مدح تیری بیاں کیا کرے گی زباں 
ماورائے بیاں آپ کی ذات ہے 
آرزوہے نصر ؔ کوحضور آپ کی
خواجہ ء خواجگاں ، آپ کی ذات ہے 
17-10-11

محمد ذیشان نصر
| 0 comments | Labels: