twitter

Showing posts with label روزنامچہ. Show all posts
Showing posts with label روزنامچہ. Show all posts

لگتا ہے اقبالؒ نے یہ نظم میرے لئے ہی لکھی ہے۔۔۔ سو فیصد میری کیفیات پر جچ رہی ہے۔۔۔

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو

مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری 
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

آزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو

گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو

ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا ہو

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو

صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو

ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو

آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ
پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

مہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو

پچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی مؤذن
میں اس کا ہم نوا ہوں ، وہ میری ہم نوا ہو

کانوں پہ ہو نہ میرے دیر وحرم کا احساں
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو

پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا ہو

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو

ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں ، شاید انھیں جگا دے

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
Friday, November 1, 2013 | 0 comments | Labels:


خیالات کے منتشر ہجوم کو صفحۂ قرطاس پر بکھیرنا کس قدر دشوار ہے اور جذبات کے تلاطم کو اوراقِ ہستی پر رقم کرنا کتنا مشکل؟ اس کی قلعی مجھ پر آج کھلی ۔سوچ رہا ہوں کیا لکھوں ۔۔ کیسے لکھوں ۔۔ الفا ظ ہیں کہ دیارِ دل سے کنارِ لب تک آتے آتے خود ہی دم توڑ جاتے ہیں ۔۔۔ خیالات کا ایک بحرِ بے کراں ہے کہ نوکِ قلم تک آنے سے پہلے ہی ذہن کی لامحدود وسعتوں میں کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ جب لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو لکھ نہیں پاتا۔۔۔ ایک طرف ناآسودہ خواہشات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے تو دوسری طرف تشنہ بہ تکمیل تمناؤں کا اک جمِ غفیر۔ ۔۔ اور ذہن ہے کہ اسی ہجوم ِغم میںکہیں الجھ کر رہ جاتا ہے ۔ پھر اسی ذہن کی ڈھونڈتے ڈھونڈے میں خود بھی اسی ہجومِ غم میں کہیں کھو کر رہ جاتا ہوں ۔۔ !
پھر اک نئے سفر کی ابتدا ہوتی ہے اورمیں خود ہی کی تلاش کے ایک لا متناہی سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہوں ۔ ۔۔ میں خود کو کھوجنا چاہتا ہوں۔۔ خود کو پہنچاننا چاہتا ہوں ۔۔۔ مگر میں خود کو ڈھونڈھ نہیں پاتا۔۔۔ اور میں خود کو خود ہی کے اس شعر کا مصداق پاتا ہوں۔۔۔!
وہی سنسان رستے ہیں ، وہی گمنام منزل ہے
چلا تھا جس جگہ سے میں اسی رہ پر کھڑا ہو ں پھر

محمد ذیشان نصر (کیفیت نامہ روزِ ہذا)
Thursday, October 31, 2013 | 0 comments | Labels:
اس عنوان کے تحت آپ مختلف مو ضاعات پر میری ہر روز نئی تحریر پڑھ سکیں گے۔
Wednesday, January 4, 2012 | 0 comments | Labels: